نئی دہلی، 26/ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) آج دہلی قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کی۔ اپنی تقریر کا آغاز کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’آج میں اوپر والے کے کرم اور ملک کے کروڑوں لوگوں کی دعاؤں کی بدولت جیل سے باہر آیا ہوں۔ مجھے اور منیش سسودیا جی کو یہاں دیکھ کر بی جے پی کے ارکان کافی غمزدہ ہیں۔‘‘ اس کے بعد، کیجریوال نے پی ایم مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا، ’’ہمارے ساتھ اس دنیا کو چلانے والے بھگوان کا آشیرواد ہے۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ چاہے نریندر مودی کے پاس بے پناہ پیسہ اور طاقت ہو، لیکن وہ بھگوان نہیں ہیں۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ آج دہلی اسمبلی اجلاس کا پہلا دن ہے اور وزیر اعلیٰ عہدہ سے استعفیٰ دینے کے بعد کیجریوال کا ایوان میں یہ پہلا دن ہے۔ انھوں نے اجلاس کے دوران کہا کہ ’’مجھے جیل بھیجنے کے پیچھے بی جے پی کا مقصد مجھے اور عآپ کو بدنام کرنا تھا۔ یہ لوگ 27 سال سے دہلی کے اقتدار سے باہر ہیں، اس لیے یہاں کی عوام کو پریشان کر کے اقتدار میں آنا چاہتے ہیں۔‘‘
اروند کیجریوال نے ایوان میں ایک بڑا دعویٰ بھی کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’تین چار دن قبل میں بی جے پی کے ایک بڑے لیڈر سے ملا اور ان سے سوال کیا کہ مجھے گرفتار کر کے کیا ملا؟ انھوں نے کہا کہ آپ کے پیچھے دہلی کو ٹھپ کر دیا۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ دہلی کے دو کروڑ لوگوں کے کاموں کو روک کر کاموں کو ٹھپ کر کے کوئی کیسے خوش ہو سکتا ہے۔‘‘ کیجریوال نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ 27 سال سے بی جے پی دہلی کے اقتدار سے باہر۔ لوگ انھیں ووٹ نہیں دیتے۔ اسی بات کے لیے لوگوں کو پریشان کر رہے ہیں۔